تحریر:مبشرندیم
جب گائے یا بھینس بچہ دیتی ھے تو اس وقت اس سے جو دودھ نکلتا ھے وہ پیلے رنگ کا ھوتا ھے جس کو کِیڑ کہا جاتا ھے یہ بہت ہی طاقتور دودھ ھوتا ھے اس کو نکال کر پکایا جاتا ھے پھر اور دودھ مکس کر کے بولی/ بہولی تیار کی جاتی ھے اور سارے محلے میں تقسیم کی جاتی ھے۔

جس کے گھر میں بولی دی جاتی ھے وہ بولی والے برتن میں کوئی نا کوئی چیز ڈال کر دیتے ہیں۔
مثلاً چینی چاول دال آٹا گندم مکئی وغیرہ.جب بولی تقسیم کی جاتی ھے تو ایک سوال ضرور ھوتا ھے کہ بھینس نے کیا دیا ھے کٹا یا کٹی مطلب کہ لڑکا یا لڑکی.اس کے بعد پھر بچے کو ماں کا دودھ پینے کے لیے چھوڑا جاتا ھے

اب چند دنوں تک دودھ کا رنگ سفید ھوتا ھے مگر یہ دودھ چائے کے لیے استعمال نہیں ھو سکتا اس دودھ کو جب چھولےطپر رکھا جاتا ھے تو پھٹ جاتا ھے جس سے ایک اور مزیدار قسم کا دودھ تیار ھوتا ھے جس کو ہبلو کہا جاتا ھے.۔

چند دن کے بعد دودھ ہر قسم کے استعمال کے قابل ھو جاتا ھے.
یہ تھی گاؤں کی زندگی ایک خوبصورت سا پہلو
مگر اب وہ دن کہاں گئے کسی کو معلوم نہیں
-------------------------------------------------

ایک تبصرہ شائع کریں

If you have any doubts, Please let me know

 
Top
close