یہ بھارت ہے، اعلیٰ ذات کے ھندوؤں نے 17 سالہ نوجوان دلت کو اس لیے قتل کردیا کہ وہ مندر کیوں گیا

اعلی ذات کے شرپسند ہندو نوجوانوں نے یوپی میں ایک 17 سال کے دلت لڑکے کو گولی مار کر ہلاک کردیا اس نوجوان کا جرم یہ تھا کہ نے ایک مندر میں جانے کی ہمت کی تھی.اترپردیش میں ایک کم عمر دلت لڑکے کو محض اس لئے گولی مار کر ہلاک کردیا گیا کہ اس نے اونچی ذات کے اعتراضات کے باوجود مقامی مندر جاکر پوجا کی تھی۔ 17سالہ وکاس کمار کو اعلیٰ ذات کی فیملی کے 4نوجوانوں نے اُس کے گھر پہنچ کر ہلاک کیا۔

 وکاس کے باپ نے بتایا کہ اس کا لڑکا یکم جون کو ضلع امروہہ کے گاؤں دوم کھیرا کی شیو مندر میں پوجا کی تھی۔ اُسے اعلیٰ ذات کی فیملی کے بعض افراد نے دیکھ لیا تھا اور پھر اُس کے گھر آئے اور ہلاک کردیا۔
اس کے باوجود یہ ڈھنڈورا پیٹآ جاتا ہے کہ ہندو مت ایک پُرامن مذہب ہے۔

ہندو مذہب میں اس قدر ذات پات کی تقسیم ہے کہ اس کے اپنے پیروکار بھی مقدس کام اور پوچا پاٹ نہیں کر سکتے.اور اگروہ اس کے مرتکب ہو جائیں تو ان کو ماردینے اور جلا دینے تک کے احکام ان کی کتابوں میں ہیں. اسی پر عمل کرتے ہوئے دلتوں کو سنگین سزائیں دی جاتی ہیںِ۔
-------------------------------------------------

ایک تبصرہ شائع کریں

If you have any doubts, Please let me know

 
Top
close