اگر آپ سعودی شہری ہیں اور صحافی بننا چاہتے ہیں تو آپ کو انتہائی سخت مراحل سے گزرنا ہوگا۔ سب سے پہلے آپ کی صحافت میں تعلیمی ڈگری درکار اور چیک ہوگی۔ اس کے بعد آپ کی فصاحت، بلاغت، کتابت، اِملا، کے ساتھ ساتھ وطن سے محبت کا معیار تک چیک کیا جاتا ہے کہ آیا یہ شخص وطن دشمن ایجنسیوں کا ایجنٹ تو نہیں ہے۔

پھر سعودی وزارتِ اطلاعات و نشریات آپ کا تمام ڈیَٹا، ہاتھ پاوں کے فنگر پرنٹ لے کر کمپیوٹرائزڈ کارڈ جاری کرتا ہے۔ اتنے طویل صبر آزما مراحل کے بعد سعودی حکومت آپ کو اپنے متعلقہ اخبار/چینل کے ساتھ کام کرنے کی باقاعدہ اجازت دے دیتی ہے۔

اگر آپ امریکی شہری ہیں اور صحافی بننا چاہتے ہیں تو امریکی حکومت کو صحافت میں ماسٹر ڈگری یا اس کے مساوی ڈگری پیش کرنا ہوگی۔ پھر اس کے بعد مختلف قسم کے تحریری امتحانات کے بعد آپ کو گورنمنٹ آف امریکہ کارڈ جاری کرتی ہے۔ جس میں ریاست سے وفاداری کا حلف نامہ بھی شامل ہوتا ہے۔

اگر آپ سکینڈے نیون کنٹریز (ناروے، سویڈن، ڈنمارک) کے شہری ہیں اور صحافی بننا چاہتے تو آپ کو سب سے پہلے صحافت میں 70% مارکس کے ساتھ شعبہ صحافت کی ماسٹر ڈگری وزارت اطلاعات کو دکھانی ہوگی۔ وزارت اطلاعات جانچ پڑتال کے بعد آپ کو کسی بھی اخبار چینل کا رپورٹر بننے سے پہلے 180 دن کے تربیتی کورس پہ بھیجتی ہے۔ جس کا خرچہ کورس کرنے والا خود اٹھاتا ہے۔

ہمارے پیارے ملک پاکستان میں آپ کے پاس صحافتی ڈگری نہ بھی ہو۔ حتی کہ آپ اَن پڑھ ہیں پھر بھی صحافی بننا چاہتے ہیں تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔  کِسی بھی برسوں سے بند پمفلٹ ٹائپ دو صفحوں کے اخبار کی نمائندگی لے سکتے ہیں۔

جس کےلیے آپ کو دو فوٹو اور چند ہزار روپے ایڈیٹر کو بطور نذرانہ دینا ہوں گے۔ اگلے روز آپ کا کارڈ بن کر آجائے گا۔ جلد مشہور ہونے کے لئے قریبی دوستوں سے مبارک باد کی پینافلیکس بنوا کے چوکوں اور چوراہوں میں لگوا دیں۔ بس صحافی تیار ہے۔
-------------------------------------------------

ایک تبصرہ شائع کریں

If you have any doubts, Please let me know

 
Top
close