کالم نگار: کاشف ابرار منہاس
علاقہ لنڈی پٹی کے سیاسی حالات کے جائزہ کے بعد محتبر سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ تمام تر دوڑ دھوپ کے باوجود میجر طاہر اقبال کو حالیہ ضمنی انتخاب کے نتیجہ کے بعد مسلم لیگ ن کی قیادت کے سامنے شرمندگی اور حیدر ہاوءس سے بھی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ حلقہ پی پی 20 میں نہ صرف ان کا اپنا ہوم سٹیشن علاقہ لنڈی پٹی واقع ہے بلکہ وہاں سے ہی مد مقابل امیدوار کا تعلق بھی ہے جسے نہ صرف بوجہ رشتہ داری بلکہ اندرون خانہ سیاسی نقطۂ نظر کے تحت بھی میجر طاہر کے حریف سردار عباس گروپ کے ہر جگہ سے مستند دھڑوں کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے اس کے علاوہ طارق کالس نے ضلع کونسل کی چیئرمینی کے الیکشن میں بھی سردار عباس کے ساتھ دلی حمایت کی وجہ سے سردار عباس کے کہنے پر پی ٹی آئی کا باغی گروپ سے الحاق نہ ہونے دیا تھا اور جان بوجھ کر واضح شکست نظر آنے کے باوجود ضلع چیئرمینی کا الیکشن لڑ کر چھ ووٹ باغی گروپ کے پلڑے میں نہ جانے دیئے اور سردار عباس کے حمایت یافتہ امیدوار کی جیت میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا۔

لہذا ان حالات میں جہاں راجگان کالس کا اپنا اثرورسوخ بھی ہے سرداران دلہہ کی بھرپور سپورٹ بھی ہے سردار عباس گروپ کی بھی بھرپور سپورٹ حاصل ہے اہل علاقہ ہونے کا بھی فائدہ ملنا ہے اور پی ٹی آئی ووٹ بینک بھی ہے ن لیگ کی گرتی ہوئی ساکھ اور اوپر سے مرحوم چوہدری لیاقت کے بگڑے ہوئے بدتمیز بیٹے کی المعروف بدتمیز شخصیت کو ویسے ہی کوئی ووٹ دینے کو تیار نہیں اور موجود حالات میں مذہبی رحجان بھی مخالف ہو تو راجہ طارق کی علاقہ ونہار اور لنڈی پٹی سے لیڈ کم از کم پندرہ سے بیس ہزار ووٹ تک ہونے کی توقع کی جا رہی ہے جبکہ سردار عباس کا تعلق اس حلقہ سے نہ ہونے کی وجہ سے ان کی ساکھ پر اس رزلٹ کا کوئی برا اثر نہیں ہو گا بلکہ جو کچھ ہو گا ان کے حق میں اچھا ہی ہو گا

ایک تبصرہ شائع کریں

 
Top