چکوال(عبدالغفورمنہاس)ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی طرف سے این ایس بی فنڈ میں کروڑوں روپے کے گھپلوں اور سپورٹس کلرک غلام عباس کی طرف سے جعلی بل بنوائے جانے کا معاملہ نیب پہنچ گیا۔ ورلڈ بینک فنڈ برائے سکول ایجوکیشن پنجاب میں میگا کرپشن پر نیب کاروائی کریگا۔
 ملک رفعت حیات ،ملک مسعود الحسن، ملک خالد سعید علوی اور عبدالغفور منہاس کی طرف سے جامع درخواست بمعہ ثبوت نیب کو دی گئی ہے جس میں موقف اختیار کیاگیا ہے کہ عالمی بینک کی طرف سے پنجاب حکومت نے پنجاب کے اٹھارہ اضلاع میں نان سیلری بجٹ کے نام سے کروڑوں، اربوں روپے کی رقم فراہم کی اور ان فنڈز کے استعمال کے لیے ضابطہ اخلاق بھی جاری کیاگیا، فرنیچر کی خریداری کی مد کو سکول کونسلوں سے چھین کر ضلعی پرچیز کمیٹیوں کے دائرہ اختیار میں کر دیاگیا اور تحصیل وائز غلط انداز میں ٹینڈر طلب کیے گئے۔ فرنیچر کی خریداری کے سلسلے میں اس وقت کے ای ڈی او ڈاکٹر غلام مرتضیٰ نے اپنے ضلع سرگودھا کا انتخاب کیا ،ستم ظریفی یہ کہ مذکورہ کمپنی کا دفتر بھی جعلی پایا گیا جس کا بورڈ ایک ٹائروں والی دکان کے اوپر لگایا گیا تھا، معاملہ اینٹی کرپشن پہنچا تو اس کی آنکھیں بند کر دی گئیں۔
بیس کروڑ روپے جو 248ہائی اور ہائیر سیکنڈری و مردانہ سکولوں کے لیے منظور کیے گئے ان میں سے پچیس فیصد رقم فرنیچر خریداری کے لیے خرچ کرنے کی اجازت تھی باقی پچیس فیصد دیگر ضروریات کے لیے سکولوں کی صوابدید پر چھوڑا گیا، پانچ کروڑ روپے کی رقم کی خریداری کے لیے کسی سکول نے نہ تو کوئی اشتہار دیا اور نہ ہی کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کیاگیا،ضلعی پرچیز کمیٹی نے خریدار خود مہیا کیے اور سکولوں کے سربراہان کو ادائیگی کے احکامات دئیے گئے، اس طرح پچیس فیصد فرنیچر خریداری کے لیے علیحدہ کر لیے گئے جبکہ پچہتر فیصد رقم سکول کونسلوں پر چھوڑ دی گئی، 27کمپیوٹر لیب کے لیے چار کروڑ بتیس لاکھ منظور کیے گئے ایک لاکھ روپے کا یوپی ایس خریدا گیا جو آج بھی بیکار پڑا ہے۔ چوبیس سائنس لیبارٹریوں کے لیے چھ کروڑ اڑتالیس روپے منظور ہوئے، تیس کمپیوٹرز لیب کے لیے وفاقی حکومت نے سولہ لاکھ روپے فی لیب کے حساب سے چار کروڑ اڑتالیس لاکھ روپے ،54کمپیوٹر لیبارٹریوں ایلیمنٹری زنانہ و مردانہ کے لیے پانچ لاکھ روپے فی لیب کے حساب سے دو کروڑ ستر لاکھ روپے منظور ہوئے۔
 غیر ضروری اور بغیر ڈیمانڈ کے دو کروڑ روپے کا فرنیچر ہائی و ہائیر سیکنڈری سکولوں کے لیے خریدا گیا، کئی ایسے سکولوں میں فرنیچر خریدا گیا جہاں بچوں کی تعداد کم اور فرنیچر زیادہ تھا۔گورنمنٹ ہائی سکول بڈھیال کے لیے گیارہ کمپیوٹر گیارہ لاکھ روپے میں خریدے گئے، ایک لاکھ روپے فی کمپیوٹر کے حساب سے بل بنوائے گئے ستم ظریفی یہ کہ سپورٹس آفس کے کلرک غلام عباس نے المنہاس ٹریڈرز اور المیزان کے جعلی بل بنا کر دئیے اور تمام ووچر پر دستخط بھی غلام عباس کے ہی ہیں۔ سرکاری سکیموں میں سی سی ٹی وی کیمرے کو فنکشنل کرنے اور مرمت کے لیے ملتان کی فرم کو ٹھیکہ دیاگیا جس کا چکوال میں نہ تو کوئی نمائندہ ہے اور نہ کوئی سیٹ اپ، ہر ماہ مذکورہ کمپنی کا نمائندہ چکوال آ کر رقم اکٹھی کر کے چلا جاتاہے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

If you have any doubts, Please let me know

 
Top
close