چکوال(عبدالغفورمنہاس)پوسٹ آفس دوالمیال کی انتظامیہ کا وطن کی خاطر قربانیاں دینے اور اپنی جوانیاں وطن پر قربان کرنے والے پنشنرز کے لیے وبال جان بن گئی ،بوڑھی بیوائیں بھی پنشن کے حصول کے لیے ذلیل و خوار ہونے پر مجبور ،پوسٹ آفس میں بیٹھنے کے لیے نہ کوئی جگہ اور نہ پینے کے لیے پانی، غرض کوئی سہولت موجود نہیں، الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کی ٹیم نے اچانک پوسٹ آفس دوالمیال پہنچ کر ذلیل و خوار ہونے والے پنشنرز کے حالات جاننے کی کوشش کی تو وہاں پر موجود سابق ریٹائرڈ فوجیوں اور شہداء و دیگر مرحوم فوجیوں کی بیواؤں نے شکایات کے انبار لگا دئیے۔
ٹیم جب وہاں پر پہنچی تو پنشنروں اورخواتین کے لیے بیٹھنے کا کوئی انتظام نہیں تھا اور ادھیڑ عمر پنشنر بھی وہاں پر پنشن کے حصول کے لیے پوسٹ آفس عملہ کا سگنل ملنے کا انتظار کر رہے تھے ،پنشنرز نے بتایا کہ پوسٹ آفس دوالمیال تترال کہون اور دوالمیال کا اکلوتا پوسٹ آفس ہے اور یہ آج کی بات نہیں بلکہ ہر پنشن لینے والے دنوں میں انہیں ذلیل و خوار کیا جاتا ہے ، پنشنر پنشن لینے کے لیے صبح پہنچتے ہیں اور سارا سارا دن وہاں پر ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ ان کے بیٹھنے کے لیے کوئی جگہ نہیں اور نہ ہی پینے کے لیے پانی کا کوئی نظام ہے۔ دوسری طرف پوسٹ آفس دوالمیال کے پوسٹماسٹر نے موقف اختیار کیا کہ پنشنرز کا گلہ اپنی جگہ بجا ہے مگر اس میں پوسٹ آفس کے عملے کا کوئی قصور نہیں کیونکہ انہیں جنرل پوسٹ آفس سے پنشن کی رقم انتہائی لیٹ مہیا کی جاتی ہے اور جیسے ہی ہمارے پاس رقم پہنچتی ہے ہم پنشنرز میں تقسیم کر دیتے ہیں۔



ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubts, Please let me know